Jokes In Urdu

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Welcome To Jokes In Urdu Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 Urdu Jokes In Urdu. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes In Urdu. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can'T Read All Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes

ڈاکٹر: کہو! کل سے تمہیں کوئی تکلیف تو

ڈاکٹر: کہو! کل سے تمہیں کوئی تکلیف تو نہ ہوئی؟
مریض: بس ڈاکٹر صاحب، سانس بہت تیزی سے چل رہی ہے۔
ڈاکٹر: مطمئن رہو میں اسے بھی روک دوںگا۔

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی مولانا ابو

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی مولانا ابولاعلی مودودی سے خوب گاڑھی چھنتی تھی۔ اس بے تکلفی میں اکثر برجستہ جملوں کا نہایت لطیف تبادلہ جاری رہتا تھا۔
ایک دفعہ مولانا مودودی بیمار پڑ گئے۔ جوش صاحب خبر سنتے تیمار داری کو پہنچ گئے۔ بیماری کا حال پوچھا تو مولانا نے فرمایا؛
"ڈاکٹروں نے پتھری تشخیص کی ہے۔۔"
سنتے ہی جوش صاحب کی حس ظرافت پھڑک اٹھی۔
"اف ظالم، اپنے کرموں کی معافی مانگ، تو تو بڑا گنہگار ہے۔۔"
مولانا کو حیرت ہوئی؛ "جوش صاحب، پتھری کا گناہوں سے کیا تعلق ہے۔۔"
جوش صاحب فورا کہنے لگے؛ "مولانا، آپ تو اندر سے سنگسار ہو رہے ہیں۔۔۔"

ایک کشتی میں ایک شعبدہ باز سوار تھا۔ وہ راستہ بھر مسافروں کو کرتب دکھاتا ر

ایک کشتی میں ایک شعبدہ باز سوار تھا۔ وہ راستہ بھر

مسافروں کو کرتب دکھاتا رہا۔ کبھی وہ کسی کی گھڑی کے دو

ٹکڑے کر دیتا اور اسے دوبارہ جوڑ دیتا۔ اور کبھی کسی کرسی

کو توڑ کر جوڑ دیتا۔ اتفاق سے اسی دوران کشتی الٹ گئی۔

ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ شعبدہ باز اور تین چار دوسرے مسافر ایک

تختے پر سوار ہو گئے۔ جب ذرا حواس بحال ہوئے تو ایک مسافر

بولا۔ بس، بہت مذاق ہو چکا ، اب کشتی کو پہلی حالت میں لے

آؤ۔

دو شہری ایک سڑک پر برابر چل رہے تھے اسی دوران ایک دیہاتی بھی ان کے درمیان

دو شہری ایک سڑک پر برابر چل رہے تھے اسی دوران ایک

دیہاتی بھی ان کے درمیان آ کر چلنے لگا۔ شہریوں نے پوچھا۔

کیوں بھئی ! تم احمق ہو ، یا بیوقوف۔
دیہاتی چہک کر بولا: جناب میں دونوں کے درمیان میں ہوں۔

ایک صاحب کو وقت معلوم کرنا تھا۔ او شبر

ایک صاحب کو وقت معلوم کرنا تھا۔ او شبراتی ، او شبراتی کہاں

مر گیا کم بخت۔
نوکر: آیا سرکار۔
صاحب:
ایک صاحب کو وقت معلوم کرنا تھا۔ او شبراتی ، او شبراتی کہاں

مر گیا کم بخت۔
نوکر: آیا سرکار۔
صاحب: دیکھو اس وقت کیا بج رہا ہے۔
نوکر : سرکار! اس وقت تو ریڈیو بج رہا ہے۔۔
نوکر : سرکار! اس وقت تو ریڈیو بج رہا ہے۔

Syndicate content