Jokes In Urdu

Welcome To Jokes In Urdu Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 Urdu <b>Jokes In Urdu</b>. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes In Urdu. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can'T Read All Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes

ایک بوڑھا آدمی ڈاکٹر سے جناب رات بھر سردی سے کانپتا رہا ہوں بخار بھی ہو گیا ہے

ایک بوڑھا آدمی ڈاکٹر سے جناب رات بھر سردی سے کانپتا رہا ہوں بخار بھی ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر نے پوچھا۔ کیا دانت بھی بجتے رہے تھے؟
بوڑھا بولا۔ بجتے رہے ہوں گے۔ لیکن مجھے پتہ نہیں چلا کیونکہ وہ تو میں نے اتار کر الماری میں رکھ دئیے تھے۔

انگریزی کے مشہور ادیب آسکر وائلڈ کا ڈر

انگریزی کے مشہور ادیب آسکر وائلڈ کا ڈرامہ پہلی ہی رات فیل ہوگیا۔
دوسرے روز اس کے ایک دوست نے پوچھا۔
کہو یار! کل تمہارا ڈرامہ کیسا رہا؟
آسکر وائلڈ نے کہا۔
ڈرامہ بے حد کامیاب رہا۔ لیکن دیکھنے والے فیل ہوگئے۔

رمضان بھر زور کی گرمی پڑی۔ عین انیتسوی

رمضان بھر زور کی گرمی پڑی۔ عین انیتسویں دن ابھی لوگ چاند دیکھنے کی تیاری میں تھے کہ بادل آ گئے۔
ایک بڑے میاں جنہوں نے پورے روزے رکھے تھے اس پر جل بھن گئے اور آسمان کی منہ کر کے بولے۔
واہ اﷲ میاں واہ! اپنی باری تھی تو خوب دھوپ لگائی اب ہماری باری ہے تو بادل چڑھا لئے ہیں۔

ایک سید نے اپنے بیٹے کی شادی کا انتظام

ایک سید نے اپنے بیٹے کی شادی کا انتظام کیا۔ سید صاحب کو مذاق سوجھا۔ ہدایت کر دی کہ میراثی کو کھانے کے لیے کچھ نہ دیا جائے۔ اور مانگے تو میرے پاس بھیج دینا۔ میراثی کو کھانے میں کچھ نہ ملا تو خود ہی ان کے پاس پہنچا۔ سید صاحب بولے۔
میاں دیکھو حشر کے دن تو ہمارا ہی دامن تھام کر گزرنا ہے حشر میں بخشش مقصود ہے تو یہاں کھانا نہ مانگو۔
میراثی کہاں چپ رہنے والا تھا بولا شاہ صاحب بارات کن لوگوں کے گھر جانی ہے۔
انہوں نے کہا۔
بڑے شاہ صاحب کے گھر۔
میراثی بولا تو بخشش ان سے کروا لیں گے کھانا آپ کھلا دیں۔

ایک میراثی گاؤں میں بیٹھا اپنی شہسوار

ایک میراثی گاؤں میں بیٹھا اپنی شہسواری کی ڈینگیں ماررہاتھا۔ پٹواری کو تاؤ آ گیا اس نے زمیندار کا اڑیل گھوڑا منگوا بھیجا۔
لے بیٹا اب شہسواری دکھا۔
میراثی ڈرتے ڈرتے گھوڑے پر سوار ہوا۔ گھوڑا دو چار بار اچھلا تو وہ پیچھے کھسکتا کھسکتا دھڑام سے نیچے آ رہا۔ پٹواری نے طنز سے کہا۔
کیوں میاں شہسواری تمہاری کیا ہوئی۔
شہسواری کیا ہوتی۔
میراثی نے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا۔
گھوڑا ہی ختم ہو گیا۔

ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے ب

ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سیکھنے گئے تو پوچھا۔
آپ کی فیس کتنی ہے۔
استاد نے جواب دیا۔
پہلے مہینے کی تین دینار . اور پھر ہر مہینے ایک دینار۔
ملا بولے۔
اچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آؤں گا۔

مسافر نے سٹیشن ماسٹر سے پوچھا۔جناب گاڑی اس قدر تاخیر سے کیوں آئی ہے۔سٹیشن

مسافر نے سٹیشن ماسٹر سے پوچھا۔
جناب گاڑی اس قدر تاخیر سے کیوں آئی ہے۔
سٹیشن ماسٹر بولا۔
برف باری کی وجہ سے گاڑیاں عموماً لیٹ ہو ہی جاتی ہیں۔
مسافر بولا۔
لیکن آج توبرف باری نہیں ہوئی۔
سٹیشن ماسٹر بولا۔
لیکن محکمہ موسمیات نے برف باری کی پیشین گوئی تو کی تھی۔

ایک شخص ایک گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوا۔ اور اپنی چادر بچھا کر اندر مال اک

ایک شخص ایک گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوا۔ اور اپنی چادر بچھا کر اندر مال اکٹھا کرنے گیا۔ لیکن اندر سے اس کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔ جب باہر نکلا تو اس کی چادر بھی غائب تھی۔
اور ایک رقعہ پڑا تھا۔ ’’یہاں دن کے اجالے میں کچھ نہیں ملتا تم رات کو مال ڈھونڈنے آئے ہو‘‘۔