Jokes In Urdu

Welcome To Jokes In Urdu Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 Urdu <b>Jokes In Urdu</b>. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes In Urdu. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can'T Read All Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون کو ایک چانٹا مار

دیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ مجسٹریٹ نے ملزم سے پوچھا۔
تم نے اس خاتون کو چانٹا کیوں مارا۔
ملزم نے اپنا بیان شروع کیا۔
جناب عالی ! واقعہ یہ ہوا کہ میں اس خاتون کی سیٹ کے

سامنے بیٹھا تھا۔ میںنے دیکھا کہ بس کا کنڈیکٹر اس خاتون کے

پاس آیا اور بولا۔
محترمہ ٹکٹ لے لیں۔
یہ سن کر خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔

سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالا۔ پرس نکال کر

سوٹ کیس بند کر دیا۔ سوٹ کیس بند کر کے پرس کھولا۔
پرس کھول کر اس میں سے اپنا چھوٹا بٹوا نکال کر پرس بند کر

دیا پرس بند کر کے سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول کر

پرس اس میں رکھ دیا۔ پرس سوٹ کیس میں رکھ کر خاتون نے

جب اپنا بٹوہ کھولا تو کنڈیکٹر دوسری طرف چلا گیا۔ چنانچہ

خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔
سوٹ کیس نکال کر اسے کھولا۔ سوٹ کیس کھول کر اس میں

سے پرس نکالا اور بٹوا پرس میں بند کر کے پرس کو پھر سوٹ

کیس میں رکھا اور سوٹ کیس بند کر کے سیٹ کے نیچے رکھ

دیا۔
اتنے میں کنڈیکٹر پھر اس خاتون کی طرف آیا اور ٹکٹ لینے کو

کہا۔
خاتون نے پھر سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول کر اس

میں سے پرس نکالا۔ پرس نکال کر سوٹ کیس بند کر کے پرس

کھولا۔ پرس کھول کر بٹوا نکالا اور بٹوا نکال کر پرس بند کر دیا۔

پرس بند کر کے سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول.
مجسٹریٹ نے چلا کر کہا۔
یہ کیا بک بک لگا رکھی ہے۔
ملزم نے کہا۔
جناب عالی! میں بھی آپ کی طرح پریشان ہو گیا تھا اور بے

اختیار میں نے خاتون کو چانٹا مار دیا تھا۔

دست شناس نے اس ہاتھ دیکھتے ہوئے۔مس ن

دست شناس نے اس ہاتھ دیکھتے ہوئے۔
مس ناز صاحبہ! جلد ہی کوئی فلمساز، ڈائریکٹر یا ٹی وی

پروڈیوسر آپ کو دیکھے گا اور پھر ایک ہی سال بعد آپ ملک کی

سب سے نامور اور ہر دلعزیز ہیروئن بن جائیں گے۔
بھئی آپ بھی عجیب دست شناس ہیں سب ایک سی باتیں

بتاتے ہیں ۔ کل میری سہیلی شمس اور پرسوں میری سہیلی

چمکیلی کے ہاتھ دیکھ کر بھی آپ نے یہی پیشین گوئی کی

تھی اور انہیں بھی مشہور ہیروئن بن جانے کی خوشخبری

سنائی تھی۔
میں مجبور ہوں مس ناز صاحبہ! آج کے دور کی کوئی بھی لڑکی

اس سے کم درجے کی پیشین گوئی سننا نہیں چاہتی۔

ایک بیوی کے شوہر اور ایک درجن بچوں کے

ایک بیوی کے شوہر اور ایک درجن بچوں کے باپ کی میز پر

ہمیشہ چینی کے مرتبان میں ایک رنگین مچھلی تیرتی رہتی

تھی۔
اس کے ایک دوست نے مرتبان میں ایک مچھلی کی موجودگی

کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا۔
میں کم سے کم ایک ایسی شے بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہوں جو

اپنا منہ کھولتی ہے تو کوئی چیز نہیں مانگتی۔

بیوی نے کہا۔پیارے ہم دونوں تیس برس ت

بیوی نے کہا۔
پیارے ہم دونوں تیس برس تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں

اگر تم مجھ سے پہلے وفات پا گئے تو میں ہر ہفتے تمہاری قبر پر

حاضری دیا کروں گی اور تمہارے پسندید سگریٹوں کا ایک پیکٹ

تمہاری قبر پر چڑھایا کروں گی تمہیں پتہ چل جائے گا کہ

تمہارے مرنے کے بعد بھی تمہیں بھولی نہیں ہوں۔
شوہر بولا۔
کیا سگریٹوں کے ساتھ قبر پر ماچس بھی چڑھایا کرو گی۔
تمہاری بچگانہ عادت نہیں گئی۔بیوی نے جواب دیا۔
پیارے جس جگہ تم جاؤ گے وہاں اپنے سگریٹ کو سلگانے کے

لیے کسی کو بھی ماچس کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ کیونکہ

وہاں ہر طرف آگ ہی آگ ہو گی۔

وہ بہت پریشان تھا۔ دوست نے پریشانی کی وجہ پوچھیہ پوچھی تو بولا۔گذشتہ روز

وہ بہت پریشان تھا۔ دوست نے پریشانی کی وجہ پوچھیہ پوچھی تو

بولا۔
گذشتہ روز میری ساس اغوا ہو گئی ہے۔
تو اس میں پریشانی کی تو نہیں بلکہ خوشی کی بات

ہے۔دوست نے کہا۔
یہاں تک تو واقعی خیریت تھی لیکن اب اغواکندگان کی طرف

سے یہ دھمکی موصول ہوئی ہے کہ اگر میں نے چار دن کے اندر

اندر انہیں دس ہزار روپے ادا نہ کیے تو وہ میری ساس کو دوبارہ

میرے گھر پر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جج : تم نے اپنے شوہر کے سر پر کرسی مار

جج : تم نے اپنے شوہر کے سر پر کرسی ماری تھی اس لیے

وہ ٹوٹ گئی۔
ملزمہ: مگر حضور میرا ارادہ قطعی یہ نہ تھا
جج نے کہا
اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہاری نیت نہ تھی کہ حملہ کرو.
ملزمہ نے کہا
میری نیت نہ تھی کہ کرسی توڑوں۔

ایک کنجوس شخص شادی کے بعد پہلی بار بیو

ایک کنجوس شخص شادی کے بعد پہلی بار بیوی کو سیر کرانے

کے لیے کلفٹن سیرگاہ پر لے گیا۔ دل پر پتھر رکھ اس شخص نے

پہلے تو بیوی کو جھولے سے لطف اندوز ہونے کاموقع فراہم کیا۔
اس کے بعد ایک بڑا سا چاکلیٹ خرید کر اپنی بیوی کو دیا۔ جب

بیوی چاکلیٹ کے ایک کنارے سے تھوڑا سا کھا چکی تو کنجوس

کی رگ کنجوسی بھڑکی اور وہ اپنی نئی نویلی دلہن سے

مخاطب ہوا۔
بیگم کیا خیال ہے کیوں نہ ہم باقی چاکلیٹ کو اپنے بچوں کے

لیے محفوظ رکھ لیں۔

ایک محترمہ اپنی پڑوسن پر شوہر کا ہاتھ

ایک محترمہ اپنی پڑوسن پر شوہر کا ہاتھ بٹانے کی ضرورت و

اہمیت کو واضح کرنے کے لیے بتا رہی تھی۔
میں ہر کام میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔ مثلاً آج ہی کا واقعہ

ہے ہمیں چائے کی طلب تھی۔ تجویز میں نے پیش کی۔ بنائی

میرے شوہر نے پی میں نے برتن دھوئے شوہر نے۔

ایک دعوت میں کے دوران شوہر نے بیوی کو

ایک دعوت میں کے دوران شوہر نے بیوی کو چھٹی پلیٹ بھنے

ہوئے مرغ کی کھانے پر کہا۔
ذرا غور تو کریں لوگ کیا سوچتے ہوں کہ آپ کس اس قدر پیٹو

انسان ہیں۔
بیگم تم اس کی فکر نہ کرو۔ میں ہر بار یہ کہہ کر مرغ کی پلیٹ

منگوارہا ہوں کہ میری بیگم نے منگوائی ہے۔

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جی

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جیوری کی رکن بننے

سے محض اس لیے انکار کر دیا کہ وہ موت کی سزا کو ناپسند

کرتی تھی۔
جج نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔
لیکن محترمہ وہ مقدمہ جس کے لیے آپ کو جیوری میں شامل

ہونا ہے۔ ایک معمولی سا مقدمہ ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ ایک عورت

نے اپنے شوہر کر دس ہزار روپے زیور خرید کر لانے کے لیے دئیے

تھے۔ مگر شوہر نے زیور خریدنے کی بجائے ساری رقم جوئے

میں ہار دی۔
محترمہ نے یہ سنا تو فوراً بولی۔
مناسب ہے میں بخوشی جیوری میں شامل ہوتی ہوں ممکن ہے

موت کی سزا کے بارے میں میرے جو خیالات ہیں وہ غلط ہی

ہوں۔