Judge Jokes

  • warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:bb84658318bed375ec3a0af927d42493' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>جج ملزم سے: تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران کے منیجر کے سر پر کوئی پتھر دے مارا جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گیاتھا۔<br />\nملزم نے قسم کھاتے ہوئے بتایا۔<br />\nجناب میں نے ہرگز منیجر کے سر پر کوئی پتھر نہیں مارا بلکہ جو گوشت کی بوٹی وہ میرے لیے لایا تھا اسے میں نے اس کے سر پر دے مارا تھا۔</p>\n', created = 1490849523, expire = 1490935923, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:bb84658318bed375ec3a0af927d42493' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:b000e7c01e6170f3d63309cc177f7aab' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>جج : ثابت ہو چکا ہے کہ تمام اشیائ تم نے ہی چرائی تھیں </p>\n<p>کیونکہ تمہاری انگلیوں کے نشا ن موجود ہیں۔<br />\nملزم نے کہا۔<br />\nمیری انگلیوں کے نشان؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ اس </p>\n<p>وقت تو میں نے دستانے پہنے ہوئے تھے۔</p>\n', created = 1490849523, expire = 1490935923, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:b000e7c01e6170f3d63309cc177f7aab' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:65999283280094d04e2b759506488240' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون کو ایک چانٹا مار </p>\n<p>دیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ مجسٹریٹ نے ملزم سے پوچھا۔<br />\nتم نے اس خاتون کو چانٹا کیوں مارا۔<br />\nملزم نے اپنا بیان شروع کیا۔<br />\nجناب عالی ! واقعہ یہ ہوا کہ میں اس خاتون کی سیٹ کے </p>\n<p>سامنے بیٹھا تھا۔ میںنے دیکھا کہ بس کا کنڈیکٹر اس خاتون کے </p>\n<p>پاس آیا اور بولا۔<br />\nمحترمہ ٹکٹ لے لیں۔<br />\nیہ سن کر خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔ </p>\n<p>سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالا۔ پرس نکال کر </p>\n<p>سوٹ کیس بند کر دیا۔ سوٹ کیس بند کر کے پرس کھولا۔<br />\nپرس کھول کر اس میں سے اپنا چھوٹا بٹوا نکال کر پرس بند کر</p>\n', created = 1490849523, expire = 1490935923, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:65999283280094d04e2b759506488240' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:f03a7133ad1cc581992ff3ed290f39ad' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>جب ملزم کو فیصلہ سنایا گیا تو ملزم چیخنے لگا کہ مجھے وقت </p>\n<p>دیا جائے تاکہ میں اپنی بے گناہی ثابت کر سکوں۔<br />\nہاں بالکل وقت دیا جاتا ہے پندرہ سال قید با مشقت۔ جج نے </p>\n<p>جواب دیا۔</p>\n', created = 1490849523, expire = 1490935923, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:f03a7133ad1cc581992ff3ed290f39ad' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:eeb5bcb91feab44aeef7a01c82048eb5' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>جج ملزم سے: بتاؤ ! تمہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟<br />\nملزم : جناب میں فٹ بال کھیل رہا تھا کہ سپاہیوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔<br />\nجج ﴿دوسرے ملزم سے﴾ اور تم کیا کر رہے تھے؟<br />\nملزم: جناب میں بھی فٹ بال کھیل رہا تھا۔<br />\nجج: تیسرے ملزم سے اور تم کیا کر رہے تھے؟<br />\nتیسرا ملزم: جناب ! می میں ہں ہی وہ فٹ بال ہوں جس سے یہ دونوں کھیل رہے تھے۔</p>\n', created = 1490849523, expire = 1490935923, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:eeb5bcb91feab44aeef7a01c82048eb5' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:15a4c373ca9426ce0f4beb79abf6d8a8' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:4c70e2cdcbf962ac4ec9fff9e46f9b05' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:0855055faa5769cc17f8af0af3872566' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:3daa926919d3ddaaf949282f224bbbbb' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.

جج ملزم سے: تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران کے منیجر کے سر پر کوئی پتھر دے ما

جج ملزم سے: تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران کے منیجر کے سر پر کوئی پتھر دے مارا جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گیاتھا۔
ملزم نے قسم کھاتے ہوئے بتایا۔
جناب میں نے ہرگز منیجر کے سر پر کوئی پتھر نہیں مارا بلکہ جو گوشت کی بوٹی وہ میرے لیے لایا تھا اسے میں نے اس کے سر پر دے مارا تھا۔

جج : ثابت ہو چکا ہے کہ تمام اشیائ تم نے ہی چرائی تھیں کیونکہ تمہاری انگلیو

جج : ثابت ہو چکا ہے کہ تمام اشیائ تم نے ہی چرائی تھیں

کیونکہ تمہاری انگلیوں کے نشا ن موجود ہیں۔
ملزم نے کہا۔
میری انگلیوں کے نشان؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ اس

وقت تو میں نے دستانے پہنے ہوئے تھے۔

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون کو ایک چانٹا مار

دیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ مجسٹریٹ نے ملزم سے پوچھا۔
تم نے اس خاتون کو چانٹا کیوں مارا۔
ملزم نے اپنا بیان شروع کیا۔
جناب عالی ! واقعہ یہ ہوا کہ میں اس خاتون کی سیٹ کے

سامنے بیٹھا تھا۔ میںنے دیکھا کہ بس کا کنڈیکٹر اس خاتون کے

پاس آیا اور بولا۔
محترمہ ٹکٹ لے لیں۔
یہ سن کر خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔

سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالا۔ پرس نکال کر

سوٹ کیس بند کر دیا۔ سوٹ کیس بند کر کے پرس کھولا۔
پرس کھول کر اس میں سے اپنا چھوٹا بٹوا نکال کر پرس بند کر

جب ملزم کو فیصلہ سنایا گیا تو ملزم چیخنے لگا کہ مجھے وقت دیا جائے تاکہ میں

جب ملزم کو فیصلہ سنایا گیا تو ملزم چیخنے لگا کہ مجھے وقت

دیا جائے تاکہ میں اپنی بے گناہی ثابت کر سکوں۔
ہاں بالکل وقت دیا جاتا ہے پندرہ سال قید با مشقت۔ جج نے

جواب دیا۔

جج ملزم سے: بتاؤ ! تمہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟ملزم : جناب میں فٹ با

جج ملزم سے: بتاؤ ! تمہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟
ملزم : جناب میں فٹ بال کھیل رہا تھا کہ سپاہیوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔
جج ﴿دوسرے ملزم سے﴾ اور تم کیا کر رہے تھے؟
ملزم: جناب میں بھی فٹ بال کھیل رہا تھا۔
جج: تیسرے ملزم سے اور تم کیا کر رہے تھے؟
تیسرا ملزم: جناب ! می میں ہں ہی وہ فٹ بال ہوں جس سے یہ دونوں کھیل رہے تھے۔

Syndicate content