Judge Jokes

جج ملزم سے: تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران کے منیجر کے سر پر کوئی پتھر دے ما

جج ملزم سے: تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران کے منیجر کے سر پر کوئی پتھر دے مارا جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گیاتھا۔
ملزم نے قسم کھاتے ہوئے بتایا۔
جناب میں نے ہرگز منیجر کے سر پر کوئی پتھر نہیں مارا بلکہ جو گوشت کی بوٹی وہ میرے لیے لایا تھا اسے میں نے اس کے سر پر دے مارا تھا۔

جج : ثابت ہو چکا ہے کہ تمام اشیائ تم نے ہی چرائی تھیں کیونکہ تمہاری انگلیو

جج : ثابت ہو چکا ہے کہ تمام اشیائ تم نے ہی چرائی تھیں

کیونکہ تمہاری انگلیوں کے نشا ن موجود ہیں۔
ملزم نے کہا۔
میری انگلیوں کے نشان؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ اس

وقت تو میں نے دستانے پہنے ہوئے تھے۔

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون کو ایک چانٹا مار

دیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ مجسٹریٹ نے ملزم سے پوچھا۔
تم نے اس خاتون کو چانٹا کیوں مارا۔
ملزم نے اپنا بیان شروع کیا۔
جناب عالی ! واقعہ یہ ہوا کہ میں اس خاتون کی سیٹ کے

سامنے بیٹھا تھا۔ میںنے دیکھا کہ بس کا کنڈیکٹر اس خاتون کے

پاس آیا اور بولا۔
محترمہ ٹکٹ لے لیں۔
یہ سن کر خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔

سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالا۔ پرس نکال کر

سوٹ کیس بند کر دیا۔ سوٹ کیس بند کر کے پرس کھولا۔
پرس کھول کر اس میں سے اپنا چھوٹا بٹوا نکال کر پرس بند کر

دیا پرس بند کر کے سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول کر

پرس اس میں رکھ دیا۔ پرس سوٹ کیس میں رکھ کر خاتون نے

جب اپنا بٹوہ کھولا تو کنڈیکٹر دوسری طرف چلا گیا۔ چنانچہ

خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔
سوٹ کیس نکال کر اسے کھولا۔ سوٹ کیس کھول کر اس میں

سے پرس نکالا اور بٹوا پرس میں بند کر کے پرس کو پھر سوٹ

کیس میں رکھا اور سوٹ کیس بند کر کے سیٹ کے نیچے رکھ

دیا۔
اتنے میں کنڈیکٹر پھر اس خاتون کی طرف آیا اور ٹکٹ لینے کو

کہا۔
خاتون نے پھر سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول کر اس

میں سے پرس نکالا۔ پرس نکال کر سوٹ کیس بند کر کے پرس

کھولا۔ پرس کھول کر بٹوا نکالا اور بٹوا نکال کر پرس بند کر دیا۔

پرس بند کر کے سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول.
مجسٹریٹ نے چلا کر کہا۔
یہ کیا بک بک لگا رکھی ہے۔
ملزم نے کہا۔
جناب عالی! میں بھی آپ کی طرح پریشان ہو گیا تھا اور بے

اختیار میں نے خاتون کو چانٹا مار دیا تھا۔

جب ملزم کو فیصلہ سنایا گیا تو ملزم چیخنے لگا کہ مجھے وقت دیا جائے تاکہ میں

جب ملزم کو فیصلہ سنایا گیا تو ملزم چیخنے لگا کہ مجھے وقت

دیا جائے تاکہ میں اپنی بے گناہی ثابت کر سکوں۔
ہاں بالکل وقت دیا جاتا ہے پندرہ سال قید با مشقت۔ جج نے

جواب دیا۔

جج ملزم سے: بتاؤ ! تمہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟ملزم : جناب میں فٹ با

جج ملزم سے: بتاؤ ! تمہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟
ملزم : جناب میں فٹ بال کھیل رہا تھا کہ سپاہیوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔
جج ﴿دوسرے ملزم سے﴾ اور تم کیا کر رہے تھے؟
ملزم: جناب میں بھی فٹ بال کھیل رہا تھا۔
جج: تیسرے ملزم سے اور تم کیا کر رہے تھے؟
تیسرا ملزم: جناب ! می میں ہں ہی وہ فٹ بال ہوں جس سے یہ دونوں کھیل رہے تھے۔

مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملز

مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملزم نے مطالبہ کر دیا کہ وہ اپنے وکیل صفائی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اس لئے اسے وکیل تبدیل کرنے کا موقع دیا جائے۔
جج صاحب ناگواری سے بولے۔ ’’پولیس نے تمہیں جیولرز کی دکان میں ڈاکا ڈالتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ دکاندار نے بھی تمہیں پہچان لیا ہے زیورات تمہارے قبضے سے برآمد ہوئے ہیں۔ا س کے علاوہ تم آٹھ مرتبہ کے سزا یافتہ ہو۔ تمہارے خیال میں اب کوئی دوسرا وکیل تمہارے دفاع میں کیا کہہ سکتا ہے؟‘‘
’’یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ ملزم نے جواب دیا۔

’’تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے‘

’’تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے‘‘۔ سارجنٹ نے غصے سے ملزم کو دیکھا اور پوچھا۔
’’کیا تم نے اسے جھوٹا کہا تھا؟‘‘
’’جی ہاں‘‘
’’تم نے اسے چھچھورا کہا تھا؟‘‘
’’جی ہاں‘‘
’’تم اسے بھینگا، لنگڑا ، احمق اور ناکارہ بھی کہا تھا؟‘‘
’’جی نہیں‘‘ ملزم نے سادگی سے جواب دیا‘‘۔ ’’جناب یہ باتیں تو اس وقت مجھے یاد ہی نہیں آ رہی تھیں‘‘۔

ڈاکٹر صاحب! پوسٹ مارٹم شروع کرنے سے پہل

ڈاکٹر صاحب! پوسٹ مارٹم شروع کرنے سے پہلے کیا آپ نے اس کی نبض دیکھی تھی؟ ملزم کے وکیل نے عدالت میں ڈاکٹر سے سوال کیا۔
نہیں، ڈاکٹر نے جواب دیا
کیا آپ نے اس کا بلڈ پریشر دیکھا تھا
نہیں
کیا آپ نے دیکھا کہ وہ سانس لے رہا ہے یا نہیں
نہیں
تو یہ ممکن ہے کہ جب آپ پوسٹ مارٹم کر رہے تھے وہ شخص زندہ رہا ہو
نہیں
آپ کیسے یقین سے کہ سکتے ہیں کہ مرچکا تھا
اس لئے کہ اس کا بھیجہ میری میز پر ایک مرتبان میں رکھا تھا
یہ ممکن ہے کہ اس کے باوجود بھی وہ زندہ رہا ہو
ہاں یہ ممکن ہے کہ وہ زندہ رہا ہو اور کسی عدالت میں وکالت کر رہا ہو، ڈاکٹر نے جواب دیا۔

ایک مقدمے میں گواہوں کے بیانات سننے کے بعد جج نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ کیس تمھا

ایک مقدمے میں گواہوں کے بیانات سننے کے بعد جج نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ کیس تمھارے موکل کے خلاف جارہا ہے تم چاہو تو ملزم کو مزید کاروای سے قبل اس کو الگ لے جا کر مناسب مشورہ دے دو
یہ سن کر وکیل ملزم کو لے کا الگ چلا گیا تھوڑی دیر بعد وکیل اکیلے واپس آیا تو جج نے دریافت کیا کہ ملزم کہاں ہے
وکیل نے جواب دیا وہ تو بھاگ گیا میرا اسے یہی مشورہ تھا