Judge Jokes

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

جج ﴿ملزم سے﴾ : تم نے چوری کرتے وقت اپن

جج ﴿ملزم سے﴾ : تم نے چوری کرتے وقت اپنے بیوی بچوں کا کچھ خیال نہیں کیا۔
ملزم: جناب کیا تھا۔ لیکن دوکان میں صرف مردانہ سوٹ ہی تھے۔

مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملز

مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملزم نے مطالبہ کر دیا کہ وہ اپنے وکیل صفائی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اس لئے اسے وکیل تبدیل کرنے کا موقع دیا جائے۔
جج صاحب ناگواری سے بولے۔ ’’پولیس نے تمہیں جیولرز کی دکان میں ڈاکا ڈالتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ دکاندار نے بھی تمہیں پہچان لیا ہے زیورات تمہارے قبضے سے برآمد ہوئے ہیں۔ا س کے علاوہ تم آٹھ مرتبہ کے سزا یافتہ ہو۔ تمہارے خیال میں اب کوئی دوسرا وکیل تمہارے دفاع میں کیا کہہ سکتا ہے؟‘‘
’’یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ ملزم نے جواب دیا۔

’’تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے‘

’’تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے‘‘۔ سارجنٹ نے غصے سے ملزم کو دیکھا اور پوچھا۔
’’کیا تم نے اسے جھوٹا کہا تھا؟‘‘
’’جی ہاں‘‘
’’تم نے اسے چھچھورا کہا تھا؟‘‘
’’جی ہاں‘‘
’’تم اسے بھینگا، لنگڑا ، احمق اور ناکارہ بھی کہا تھا؟‘‘
’’جی نہیں‘‘ ملزم نے سادگی سے جواب دیا‘‘۔ ’’جناب یہ باتیں تو اس وقت مجھے یاد ہی نہیں آ رہی تھیں‘‘۔

ڈاکٹر صاحب! پوسٹ مارٹم شروع کرنے سے پہل

ڈاکٹر صاحب! پوسٹ مارٹم شروع کرنے سے پہلے کیا آپ نے اس کی نبض دیکھی تھی؟ ملزم کے وکیل نے عدالت میں ڈاکٹر سے سوال کیا۔
نہیں، ڈاکٹر نے جواب دیا
کیا آپ نے اس کا بلڈ پریشر دیکھا تھا
نہیں

ایک مقدمے میں گواہوں کے بیانات سننے کے بعد جج نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ کیس تمھا

ایک مقدمے میں گواہوں کے بیانات سننے کے بعد جج نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ کیس تمھارے موکل کے خلاف جارہا ہے تم چاہو تو ملزم کو مزید کاروای سے قبل اس کو الگ لے جا کر مناسب مشورہ دے دو

Syndicate content