Judge Jokes

جج نے ملزم سے کہا، " تم اعتراف کرتے ہو

جج نے ملزم سے کہا، " تم اعتراف کرتے ہو کہ تم نے سات بار اس دوکان کا تالا توڑ کر چوری کی۔ یہ بتاو تم نے کیا کچھ چرایا"
"حضور اپنی بیوی کے لئے صرف ایک ساڑھی" ملزم نے جواب دیا۔
"صرف ایک ساڑھی کے لئے تم نے سات بار قفل شکنی کی؟"
"جی ہاں حضور،" ملزم نے جواب دیا، " میں پہلے جو چھ ساڑھیاں لایا تھا وہ میری بیوی کو پسند نہیں آئں۔"

جج :لگتا ہے تم نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہےملزم:کون سالا ایسا کہتا ہےجج:یہ

جج :لگتا ہے تم نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے
ملزم:کون سالا ایسا کہتا ہے
جج:یہ کیا بدتمیزی ہے
ملزم:میں پوچھ رہا ہوں کہ کونسا ‘‘لا‘‘ایسا کہتا ہے

ملزم:وکیل صاحب، کوشش کیجیئے گا زیادہ سے زیادہ عمر قید ہو،مجھے پھانسی سے بہ

ملزم:
وکیل صاحب، کوشش کیجیئے گا زیادہ سے زیادہ عمر قید ہو،
مجھے پھانسی سے بہت ڈر لگتا ہے۔ ۔ ۔
وکیل:
ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گا۔ ۔ ۔
فیصلے کے بعد ملزم:
وکیل صاحب کیا بنا؟
وکیل:
بڑی مشکل سے عمر قید کروائی ہے،
ورنہ عدالت تو رہا کر رہی تھی۔ ۔

جج: تم نے اس آدمی سے رقم کیوں چھینیملزم: جناب میں نے چھینی نہیں اس نے خود مجھے

جج: تم نے اس آدمی سے رقم کیوں چھینی
ملزم: جناب میں نے چھینی نہیں اس نے خود مجھے دی تھی
جج: اس نے تمہیں رقم کب دی تھی
ملزم: جب میں نے اسے بندوق دکھائی تھی

جج :ملزم سے تم دن میں کتنی بار جیب کاٹتے ہو؟ملزم:بیس تیس مرتبہجج:اور پھر بھی

جج :ملزم سے تم دن میں کتنی بار جیب کاٹتے ہو؟
ملزم:بیس تیس مرتبہ
جج:اور پھر بھی تم یہی کہتے ہو تم جیب تراش نہیں ہو؟
ملزم :جی ہاں! میں مجرم نہیں بلکہ ایک درزی ہوں

سچ سچ بتاؤ تم نے اپنی بیوی پر کس وجہ سے

سچ سچ بتاؤ تم نے اپنی بیوی پر کس وجہ سے ہاتھ اٹھایا تھا؟ جج نے ملزم سے پوچھا۔
تین باتوں کی وجہ سے جناب؛ ملزم نے جواب دیا۔ ”پہلی وجہ یہ تھی اسکی پیٹھ میری طرف تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بیلن اسکے ہاتھ میں نہیں تھا ۔ ہیں جی، اور تیسری بڑی وجہ یہ تھی کہ میرے بھاگنے کیلئے دروازہ کھلا تھا

جج ملزم سے:تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران میں مینجر کے سر پر کوئی پتھر دے مارا

جج ملزم سے:تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران میں مینجر کے سر پر کوئی پتھر دے مارا اس کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گیا تھا
ملزم نے قسم کھاتے ہوئے بتایا:
جناب میں نے ہر گز مینجر کے سر پر کوئی پتھر نہیں مارا بلکہ جو گوشت کی بوٹی وہ میرے لیے لایا تھا اسے میں نے اس کے سر پر دے مارا تھا

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون ک

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون کو چانٹا مار دیا معاملہ عدالت میں پہنچا۔
مجسٹریٹ نے ملزم سے پوچھا:تم نے اس خاتون کو چانٹا کیوں مارا؟
ملزم نے اپنا بیان شروع کیا:
جناب عالیٰ! واقعہ یہ ہوا کہ میں اس خاتون کی سیٹ کے سامنے بیٹھا تھا میں نے دیکھا کہ بس کا کنڈیکٹر اس خاتون کے پاس آیا اور بولا: محترمہ ٹکٹ لے لیں
یہ سن کر خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالا پرس نکال کر سوٹ کیس بند کر دیا سوٹ کیس بند کر کے پرس کھولا
پرس کھول کر اس میں سے اپنا چھوٹا بٹوا نکال کر پرس بند کر دیا پرس سوٹ کیس میں رکھ کر خاتون نے جب بٹوا کھولا تو کنڈیکٹر دوسری طرف چلا گیا
چناچہ خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا سوٹ کیس نکال کر اُسے کھولا ۔سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالا اور بٹوہ پرس میں بند کر کے پرس کو پھر سوٹ کیس میں رکھا اور سوٹ کیس بند کر کے سیٹ کے نیچے رکھ دیا
اتنے میں کنڈیکٹر پھر اس خاتون کی طرف آیا اور ٹکٹ لینے کو کہا
خاتون نے پھر سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالاپرس نکال کر سوٹ کیس بند کر کے پرس کھولا ۔پرس کھول کر بٹوا نکالا اور بٹوہ نکال کر پرس بند کر دیا۔اور پرس بند کر کے سوٹ کیس کھولا اور سوٹ کیس کھول ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجسٹریٹ نے چلا کر کہا:یہ کیا بک بک لگا رکھی ہے؟
ملزم نے کہا:جنابِ عالی میں بھی آپ کی طرح پریشان ہو گیا تھا اور بے اختیار میں نے خاتون کو چانٹا مار دیا

ایک مقدمہ عدالت میں پیش ہوا ملزم کے وکیل نے فیصلہ کیا کہ جج کو رشوت دی جائے چناچ

ایک مقدمہ عدالت میں پیش ہوا ملزم کے وکیل نے فیصلہ کیا کہ جج کو رشوت دی جائے چناچہ اس نے سوسو کے دس نوٹ کتاب مین رکھے اور کتاب جج کی میز پر رکھ دی اور دلائل دینے شروع کیے
مائی لارڈ! اس قسم کے کیس میں ملزم کو کوئی سزا نہیں ملتی کیونکہ آج تک اس قسم کے چار کیس ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی مثال آپ کے سامنے پری ہوئی کتاب کے صفحہ 420 پر ہے
جج نے صفحہ 420 دیکھا اور خوش ہو کر کہا:یہ تو ایک مثال ہے اس قسم کی تین مذیذ مثالیں پیش کی جائیں

عدالت میں جج نے ملزم شوہر سے استفسار کیا

عدالت میں جج نے ملزم شوہر سے استفسار کیا:تمھیں اپنی بیوی کی پٹائی کرنے کی تحریک کیسے ہوئی
ملزم شوہر نے جواب دیا:محترم! اس وقت وہ میری طرف پشت لیے کھڑی تھی میں جھاڑو ہاتھ میں لیے کمرے کی صفائی کر رہا تھا اور عقبی دروازہ بالکل میرے پیچھے کھلا ہوا تھا جس سے میں بخوبی فرار ہو سکتا تھا اس لئے میرے دل میں آئی کہ یہ موقع قسمت آزمائی کے لئے مناسب ہے