Judge Jokes

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیلا

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیلا؟
ملزم: صاحب جی، میری ماں ہمیشہ کہتی ہے نیکی کر دریا میں ڈال۔

سچ سچ بتاؤ تم نے اپنی بیوی پر کس وجہ س

سچ سچ بتاؤ تم نے اپنی بیوی پر کس وجہ سے ہاتھ اٹھایا تھا؟ جج نے ملزم سے پوچھا۔
تین باتوں کی وجہ سے جناب؛ ملزم نے جواب دیا۔ ”پہلی وجہ یہ تھی اسکی پیٹھ میری طرف تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بیلن اسکے ہاتھ میں نہیں تھا ۔ ہیں جی، اور تیسری بڑی وجہ یہ تھی کہ میرے بھاگنے کیلئے دروازہ کھلا تھا

جج نے ملزم شوہر سے پوچھا " آپ اپنی بیوی

جج نے ملزم شوہر سے پوچھا " آپ اپنی بیوی کی پٹائی کرنے کی کوئی خاص وجہ بتائیں گے ؟ "
شوہر : "جج صاحب ! اس وقت وہ میری طرف پشت کئے کھڑی تھی ۔میں جھاڑو ہاتھ میں لیئے کمرے کی صفائی کر رہا تھا
اور عقبی دروازہ بالکل میرے پیچھے کھلا ہوا تھا۔جس سے میں بخوبی فرار ہو سکتا تھا۔
اس لیئے میرے دل میں آئی کہ یہ موقع قسمت آزمائی کے لیئے بہت موزوں ہے۔ "

لندن کی ایک عدالت میں ایک شخص پر اس الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا کہ اس نے اپنی س

لندن کی ایک عدالت میں ایک شخص پر اس الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا کہ اس نے اپنی ساس کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی
مخالف وکیل نے بہت دلائل دیئے کہا س ملزم کا جرم بہت بڑا ہے اس لیے اسے کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے لیکن ان سب کے باوجود جج نے اسے بَری کر دیا اور صرف دس پونڈ جرمانہ کیا
ملزم نے حیرت زدہ ہو کر جج سے پوچھا کہ: اتنے بڑے جرم کی اتنی چھوٹی سزا؟
جج:ہاں ! میرا ایک اصول ہے کہ ہر انسان کو اپنی غلطی سدھارنے کا دوسرا موقع ضرور ملنا چاہیے

جج(ملزم سے): بتاؤ تمھیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟ملزم:جناب میں فٹ بال کھ

جج(ملزم سے): بتاؤ تمھیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟
ملزم:جناب میں فٹ بال کھیل ریا تھا کہ سپاہیوں نے مجھے گرفتار کر لیا
جج (دوسرے ملزم سے):اور تم کیا کر رہے تھے؟
ملزم:جناب! میں بھی فٹ بال کھیل رہا تھا
جج(تیسرے ملزم سے):اور تم کیا کر رہے تھے؟
تیسا ملزم:جناب! میں ہی وہ فٹ بال ہوں جس سے یہ دونوں کھیل رہے تھے

تم نے پولیس والے کی بےعزتی کی ہے؟سارجنٹ

تم نے پولیس والے کی بےعزتی کی ہے؟سارجنٹ نے غصے سے ملزم کو دیکھا اور پوچھا:
کیا تم نے اُسے جھوٹا کہا تھا؟
جی ہاں
تم نے اُسے چھچھورا کہا تھا؟
جی ہاں
تم نے اُسے بھینگا،لنگڑا،احمق اور ناکارہ کہا تھا؟
جی نہیں۔ملزم نے سادگی سے جواب دیا
جناب یہ باتیں تو اُس وقت مجھے یاد ہی نہیں آ رہی تھیں

جج:ملزم سے دیکھو تم دس مرتبہ عدالت میں لائے گئے ہو اس لئے تم پر ایک ہزار روپے جز

جج:ملزم سے دیکھو تم دس مرتبہ عدالت میں لائے گئے ہو اس لئے تم پر ایک ہزار روپے جزمانہ عائد کیا جاتا ہے
ملزم ہاتھ جوڑ کر:حضور باقاعدہ آنے جانے والے کے ساتھ کچھ نہ کچھ رعائت تو ہونی چاہیے

ایک جج نے ملزم سے کہا، ہمیں بتایا گیا

ایک جج نے ملزم سے کہا، ہمیں بتایا گیا ہے کہ تم نے برسوں سے اپنی
بیوی کو ڈرا دھمکا کر غلام بنا رکھا ہے۔
ملزم ہکلاتے ہوئے: حضور، بات دراصل یہ ہے کہ ،،،
جج: بس بس صفائی کی ضرورت نہیں۔ بس تم ہمیں یہ بتاؤ کہ تم نے اتنا بڑا کارنامہ کیسے انجام دیا۔