Judge Jokes

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

عدالت میں ایک شخص کو سزائے موت سنائی گئی ۔۔۔ تو جج نے ملزم سے کہا " تمہاری آخ

عدالت میں ایک شخص کو سزائے موت سنائی گئی ۔۔۔ تو جج نے ملزم سے کہا
" تمہاری آخری خواہش کیا ہے ؟
ملزم نے جواب دیا " آم کھاؤں گا "
جج نے کہا ابھی تو آموں کا موسم نہیں ہے ۔۔۔۔
ملزم بولا " جناب کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔ میں انتظار کر سکتا ہوں ۔۔۔

سچ سچ بتاؤ تم نے اپنی بیوی پر کس وجہ سے

سچ سچ بتاؤ تم نے اپنی بیوی پر کس وجہ سے ہاتھ اٹھایا تھا؟ جج نے ملزم سے پوچھا۔
تین باتوں کی وجہ سے جناب؛ ملزم نے جواب دیا۔ ”پہلی وجہ یہ تھی اسکی پیٹھ میری طرف تھی۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ بیلن اسکے ہاتھ میں نہیں تھا ۔ ہیں جی، اور
تیسری بڑی وجہ یہ تھی کہ میرے بھاگنے کیلئے دروازہ کھلا تھا

مجسٹریٹ: (ملزم سے) تم نے اپنی بیوی پر کر

مجسٹریٹ: (ملزم سے) تم نے اپنی بیوی پر کرسی کیوں دے ماری؟
ملزم: جناب صوفہ بہت بھاری تھا۔

ایک زیر تفتیش مشتبہ ملزم نے ایک پولیس آف

ایک زیر تفتیش مشتبہ ملزم نے ایک پولیس آفیسر کی دعوت کی۔ دعوت میں پولیس افسر اکیلا دو مرغ چٹ کر گیا ۔۔۔ کھانے کے بعد پولیس افسر نے صحن میں ایک بوڑھے مرغ کو سینہ نکالے ، تں کر چلتے ہوئے دیکھا تو بولا
: واہ بھئی واہ ، آپ نے مرغ کو دیکھا ۔۔۔ کیسے سینہ تان کر چل رہا ہے ۔۔"
" جی ہاں ۔۔کیوں نہیں ۔۔سینہ تان کر فخر سے چلے کہ اس کے دو بیٹوں نے ایک پولیس افسر کی خدمت کی ہے ۔۔:
میزبان نے جل کر کہا

جج نے ملزم سے پوچھا ۔۔ : لیڈی ڈاکٹر کہہ

جج نے ملزم سے پوچھا ۔۔ : لیڈی ڈاکٹر کہہ رہی تھی تم نے اس سے کچھ غلط قسم کی گفتگو کی ہے ؟
: ہرگز نہیں ، جج صاحب " ملزم نے جواب دیا
: دراصل وہ مجھے اس طرح ہدایت دے رہی تھی جیسے میری بیوی دیتی ہے ۔۔۔تو ۔۔۔حسب بے خیالی میں میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔ٹھیک ہے میری جان ۔۔۔

Syndicate content