Judge Jokes

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

جج(ملزم سے): بتاؤ تمھیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟ملزم:جناب میں فٹ بال کھ

جج(ملزم سے): بتاؤ تمھیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟
ملزم:جناب میں فٹ بال کھیل ریا تھا کہ سپاہیوں نے مجھے گرفتار کر لیا
جج (دوسرے ملزم سے):اور تم کیا کر رہے تھے؟
ملزم:جناب! میں بھی فٹ بال کھیل رہا تھا
جج(تیسرے ملزم سے):اور تم کیا کر رہے تھے؟
تیسا ملزم:جناب! میں ہی وہ فٹ بال ہوں جس سے یہ دونوں کھیل رہے تھے

تم نے پولیس والے کی بےعزتی کی ہے؟سارجنٹ

تم نے پولیس والے کی بےعزتی کی ہے؟سارجنٹ نے غصے سے ملزم کو دیکھا اور پوچھا:
کیا تم نے اُسے جھوٹا کہا تھا؟
جی ہاں
تم نے اُسے چھچھورا کہا تھا؟
جی ہاں
تم نے اُسے بھینگا،لنگڑا،احمق اور ناکارہ کہا تھا؟
جی نہیں۔ملزم نے سادگی سے جواب دیا
جناب یہ باتیں تو اُس وقت مجھے یاد ہی نہیں آ رہی تھیں

جج:ملزم سے دیکھو تم دس مرتبہ عدالت میں لائے گئے ہو اس لئے تم پر ایک ہزار روپے جز

جج:ملزم سے دیکھو تم دس مرتبہ عدالت میں لائے گئے ہو اس لئے تم پر ایک ہزار روپے جزمانہ عائد کیا جاتا ہے
ملزم ہاتھ جوڑ کر:حضور باقاعدہ آنے جانے والے کے ساتھ کچھ نہ کچھ رعائت تو ہونی چاہیے

ایک جج نے ملزم سے کہا، ہمیں بتایا گیا

ایک جج نے ملزم سے کہا، ہمیں بتایا گیا ہے کہ تم نے برسوں سے اپنی

بیوی کو ڈرا دھمکا کر غلام بنا رکھا ہے۔

ملزم ہکلاتے ہوئے: حضور، بات دراصل یہ ہے کہ ،،،

جج: بس بس صفائی کی ضرورت نہیں۔ بس تم ہمیں یہ بتاؤ کہ تم نے اتنا بڑا کارنامہ کیسے انجام دیا۔

جج ملزم سے ؛ جانتے ہو جھوٹ بول کر تمیں ک

جج ملزم سے ؛ جانتے ہو جھوٹ بول کر تمیں کہاں جانا ہو گا :
ملزم : جی ہاں ۔ دوزخ میں :
جج : اور سچ بول کر :
' ملزم : سرکاری جیل خانے میں ؛

Syndicate content