Judge Jokes

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

جج(ملزم سے)”تم نے اس آدمی کے منہ پر گھونسا کیوں مارا؟“ملزم :” جناب اس نے آج

جج(ملزم سے)”تم نے اس آدمی کے منہ پر گھونسا کیوں مارا؟“
ملزم :” جناب اس نے آج سے دو سال پہلے مجھے گینڈا کہا تھا۔ “
جج:” اگر دو سال پہلے کہا تھا تو اب مارنے کا کیا جواز تھا؟“
ملزم :”جناب میں نے آج ہی گینڈا دیکھا ہے۔

جج(ملزم سے)”تم نے اس آدمی کے منہ پر گھونسا کیوں مارا؟“ملزم :” جناب اس نے آج سے

جج(ملزم سے)”تم نے اس آدمی کے منہ پر گھونسا کیوں مارا؟“
ملزم :” جناب اس نے آج سے دو سال پہلے مجھے گینڈا کہا تھا۔ “
جج:” اگر دو سال پہلے کہا تھا تو اب مارنے کا کیا جواز تھا؟“
ملزم :”جناب میں نے آج ہی گینڈا دیکھا ہے

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیل

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیلا؟
ملزم: صاحب جی، میری ماں ہمیشہ کہتی ہے نیکی کر دریا میں ڈال۔

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیلا؟

جج (ملزم سے): تم نے اپنے دوست رشید کو نوکری دلوانے کے بعد دریا میں کیوں دھکیلا؟

ملزم: صاحب جی، میری ماں ہمیشہ کہتی ہے نیکی کر دریا میں ڈال۔

‘‘تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے۔۔‘‘س

‘‘تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے۔۔‘‘سارجنٹ نے غصے سے ملزم کو دیکھا اور پوچھا۔۔
‘‘کیا تم نے اسے جھوٹا کہا تھا ؟‘‘
‘‘جی ہاں۔۔‘‘
‘‘تم نے اسے چھچھورا کہا تھا؟‘‘
‘‘جی ہاں۔۔‘‘
‘‘تم نے اسے بھینگا‘ لنگڑا‘ احمق اور ناکارہ بھی کہا تھا ؟‘‘
‘‘جی نہیں۔۔‘‘ملزم نے سادگی سے جواب دیا۔۔‘‘جناب یہ باتیں تو اُس وقت مجھے یاد ہی نہیں آئی تھیں۔۔‘‘

Syndicate content