Urdu Jokes

Welcome To Urdu Jokes Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 <b>Urdu Jokes</b>. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can't Finish Then All Because We Are Adding More Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Fresh Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes. Please Do Remeber To Add One Joke Because A Joke A Day, Keeps The Sorrow Away...

Doctor: I have bad news for you. You onl

Joke Body

Doctor: I have bad news for you. You only have 10 left to live.

Patient: Ten what?

Doctor: Nine. Eight...

ڈاکٹر : (مریض کو چیک کرنے کے بعد) تمہاری زندگی میں صرف دس باقی رہ گئے ہیں
مریض : ڈاکٹر صاحب دس کیا؟
ڈاکٹر : نو ، آٹھ ، سات ۔ ۔ ۔

Rate This Joke
Average: 3 (1 vote)

Sardar Opened A Massage Parlor And The B

Joke Body

Sardar Opened A Massage Parlor And The Business Failed Because It Was Self-Service
سردار جی نے مساج سنٹر کھولا ۔ ذرا بھی نہیں چلا
کیوں بھلا
سردار جی نے لکھا تھا سیلف سروس

Rate This Joke
No votes yet

انار کلی میں سکھ کو دیکھ کر بہت سے لوگ

Joke Body

انار کلی میں سکھ کو دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہو گئے ہجوم اکٹھا ہوتے دیکھ کر سردار جی اطمینان سے بولے۔ ’’بھئی دیکھتے جاؤ اور گذرتے جاؤ

Rate This Joke
Average: 5 (1 vote)

ایک شخص ایک گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوا۔ اور اپنی چادر بچھا کر اندر مال اک

Joke Body

ایک شخص ایک گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوا۔ اور اپنی چادر بچھا کر اندر مال اکٹھا کرنے گیا۔ لیکن اندر سے اس کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔ جب باہر نکلا تو اس کی چادر بھی غائب تھی۔
اور ایک رقعہ پڑا تھا۔ ’’یہاں دن کے اجالے میں کچھ نہیں ملتا تم رات کو مال ڈھونڈنے آئے ہو‘‘۔

Rate This Joke
No votes yet

جج ملزم سے: تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران کے منیجر کے سر پر کوئی پتھر دے ما

Joke Body

جج ملزم سے: تم پر الزام ہے کہ تم نے ریستوران کے منیجر کے سر پر کوئی پتھر دے مارا جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گیاتھا۔
ملزم نے قسم کھاتے ہوئے بتایا۔
جناب میں نے ہرگز منیجر کے سر پر کوئی پتھر نہیں مارا بلکہ جو گوشت کی بوٹی وہ میرے لیے لایا تھا اسے میں نے اس کے سر پر دے مارا تھا۔

Rate This Joke
No votes yet

بیوی نئی ساڑھی کے لیے ضد کر رہی تھی۔

Joke Body

بیوی نئی ساڑھی کے لیے ضد کر رہی تھی۔
میاں نے سمجھایا۔
نیک بخت تمہاری الماری ساڑھیوں سے بھری پڑی ہے۔ نئی ساڑھی پر پیسے ضائع کرنے سے فائدہ۔
بیوی نے کہا۔
وہ سب محلے والیوں نے دیکھ رکھی ہیں۔
اچھا۔ میاں نے کہا۔ تو چلو یوں کرتے ہیں کہ محلہ ہی بدل لیتے ہیں۔

Rate This Joke
No votes yet

ویت نام کی جنگ کے دوران جب ایک ویت نام کمانڈر اگلے مورچوں کا معائنہ کر رہا تھا

Joke Body

ویت نام کی جنگ کے دوران جب ایک ویت نام کمانڈر اگلے مورچوں کا معائنہ کر رہا تھا تو اچانک دشمن کی طرف سے ایک گولی آئی اور کمانڈر کے سر سے گذر گئی کمانڈر نے فوراً حکم دیا۔
جدھر سے گولی آئی ہے ادھر فائر کھول دو۔
لیکن ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر کہا۔ جناب ہمیں اسلحہ ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہمیں معلوم ہے کہ دشمن کا سپاہی کس جگہ چھپا ہوا اور ہم جس وقت بھی چاہیں دشمن کو اپنی گولی کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
تو پھر اسے گولی کیوں نہیں مارتے۔
اس لیے کہ اس سپاہی کا نشانہ بہت غلط ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم نے اسے گولی مار دی تو وہ وہاں کوئی صحیح نشانے والا آدمی نہ بھیج دیں۔

Rate This Joke
No votes yet

تین شرابیوں کے ہاتھ ایک بوتل آ گئی۔طے

Joke Body

تین شرابیوں کے ہاتھ ایک بوتل آ گئی۔طے پایا کہ سب کا حصہ برابر ہو گا۔
بوڑھے شرابی نے تجویز مان لی اور کہا۔
بوتل سے اپنا اپنا حصہ آپ پہلے نکال لیں۔ بچی ہوئی شراب میں پی لوں گا۔
ساتھیوں نے تجویز مان لی اورگلاس اور برف لینے باہر چلے گئے۔ لوٹے تو دیکھا کہ بوتل خالی پڑی ہے اور بڑے میاں دھت پڑے ہیں۔ یاروں نے جواب طلبی کی تو بولے۔
تمہیں جب اتنی دیر ہو گئی تو سوچا کہ میں اپناحصہ پی لوں۔ یہ الگ بات ہے کہ میں تمہارا حصہ پئے بغیر اپنے حصہ تک نہ پہنچ سکتا تھا۔

Rate This Joke
No votes yet

ایک بار چارلی چپلن کو پتہ چلا کہ ایک شہرمیں انعامی مقابلہ ہو رہا ہے۔ پہلا انعا

Joke Body

ایک بار چارلی چپلن کو پتہ چلا کہ ایک شہرمیں انعامی مقابلہ ہو رہا ہے۔ پہلا انعام اسے دیا جاتا ہے جو چارلی چپلن کی ہو بہو نقل اتار سکے۔
چارلی کو شرارت سوجھی۔ اپنا نام بھی لکھوا دیا۔ پہنچا تو مقابلہ ہار گیا۔

Rate This Joke
No votes yet

رات مشتاق اور مظفر میں خوب دھینگا مشتی ہوئی۔حیرت ہے وہ تو ایک جان دو قالب تھ

Joke Body

رات مشتاق اور مظفر میں خوب دھینگا مشتی ہوئی۔
حیرت ہے وہ تو ایک جان دو قالب تھے۔
ہاں درست ہے انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنے میں دس منٹ تک زور لگانا پڑا۔

Rate This Joke
No votes yet