Urdu Jokes

Welcome To Urdu Jokes Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 <b>Urdu Jokes</b>. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can't Finish Then All Because We Are Adding More Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Fresh Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes. Please Do Remeber To Add One Joke Because A Joke A Day, Keeps The Sorrow Away...

ایک کنجوس شخص شادی کے بعد پہلی بار بیو

ایک کنجوس شخص شادی کے بعد پہلی بار بیوی کو سیر کرانے

کے لیے کلفٹن سیرگاہ پر لے گیا۔ دل پر پتھر رکھ اس شخص نے

پہلے تو بیوی کو جھولے سے لطف اندوز ہونے کاموقع فراہم کیا۔
اس کے بعد ایک بڑا سا چاکلیٹ خرید کر اپنی بیوی کو دیا۔ جب

بیوی چاکلیٹ کے ایک کنارے سے تھوڑا سا کھا چکی تو کنجوس

کی رگ کنجوسی بھڑکی اور وہ اپنی نئی نویلی دلہن سے

مخاطب ہوا۔
بیگم کیا خیال ہے کیوں نہ ہم باقی چاکلیٹ کو اپنے بچوں کے

لیے محفوظ رکھ لیں۔

ایک محترمہ اپنی پڑوسن پر شوہر کا ہاتھ

ایک محترمہ اپنی پڑوسن پر شوہر کا ہاتھ بٹانے کی ضرورت و

اہمیت کو واضح کرنے کے لیے بتا رہی تھی۔
میں ہر کام میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔ مثلاً آج ہی کا واقعہ

ہے ہمیں چائے کی طلب تھی۔ تجویز میں نے پیش کی۔ بنائی

میرے شوہر نے پی میں نے برتن دھوئے شوہر نے۔

ایک دعوت میں کے دوران شوہر نے بیوی کو

ایک دعوت میں کے دوران شوہر نے بیوی کو چھٹی پلیٹ بھنے

ہوئے مرغ کی کھانے پر کہا۔
ذرا غور تو کریں لوگ کیا سوچتے ہوں کہ آپ کس اس قدر پیٹو

انسان ہیں۔
بیگم تم اس کی فکر نہ کرو۔ میں ہر بار یہ کہہ کر مرغ کی پلیٹ

منگوارہا ہوں کہ میری بیگم نے منگوائی ہے۔

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جی

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جیوری کی رکن بننے

سے محض اس لیے انکار کر دیا کہ وہ موت کی سزا کو ناپسند

کرتی تھی۔
جج نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔
لیکن محترمہ وہ مقدمہ جس کے لیے آپ کو جیوری میں شامل

ہونا ہے۔ ایک معمولی سا مقدمہ ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ ایک عورت

نے اپنے شوہر کر دس ہزار روپے زیور خرید کر لانے کے لیے دئیے

تھے۔ مگر شوہر نے زیور خریدنے کی بجائے ساری رقم جوئے

میں ہار دی۔
محترمہ نے یہ سنا تو فوراً بولی۔
مناسب ہے میں بخوشی جیوری میں شامل ہوتی ہوں ممکن ہے

موت کی سزا کے بارے میں میرے جو خیالات ہیں وہ غلط ہی

ہوں۔

وحیدہ . بھئی تم تو بڑی بدل گئی ہو۔ پہل

وحیدہ . بھئی تم تو بڑی بدل گئی ہو۔ پہلے موٹی تھی اب دبلی

ہو گئی ہو۔پہلے تمہارے بالوں کی رنگت سنہری تھی اب سیاہ ہو

چکی ہے۔
پہلے تمہاری نظر بالکل ٹھیک تھی اب نظر کی کمزوری کی وجہ

سے تم نے چشمہ لگا رکھا ہے
پہلے تم بھدی معلوم ہوتی تھیں اب خوبصورت نظر آ رہی ہو۔
دوسری لڑکی نے تعجب سے پہلی کو دیکھا۔ پھر بولی
میرانام وحیدہ نہیں رخسانہ ہے۔
پہلی نے کہا :واہ بھئی واہ!
بڑی شریر ہو تم ، اپنا نام تک بدل چکی ہو۔

ڈاکٹر صاحب. مسز زاہدہ نے کہا ’’براہ کر

ڈاکٹر صاحب. مسز زاہدہ نے کہا ’’براہ کرم مجھے بتائیں کہ میں

کس مرض میں مبتلا ہوں۔ آخر مجھے تکلیف کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر مسکراتے بولا۔
آپ کو آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے میرے دفتر

کے باہر میرے نام کی پلیٹ کو صحیح طریقے سے پڑھا ہوتا تو آپ

کو بخوبی علم ہو جاتا کہ میں لٹریچر کا ڈاکٹر ہوں اور مقامی

یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔

ایک رات سخت بارش ہو رہی تھی۔ اچانک ایک

ایک رات سخت بارش ہو رہی تھی۔ اچانک ایک پٹھان کا مکان گر

گیا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان ہوا۔ اچانک بارش نے طوفان کو روپ

دھارا اور بجلی چمکنے لگی اور بادل زور زور سے گرجنے لگے۔

پٹھان پہلے ہی جلا بھنا بیٹھا تھا بول اٹھا۔ اب کیا رہ گیا ہے.

خداوندا جو بیٹری کی روشنی میں ڈھونڈ رہا ہے۔

ایک شخص بہت دیر سے دروازے پر دستک دے رہا تھ آخر کار اندر سے آواز آئی کون ص

ایک شخص بہت دیر سے دروازے پر دستک دے رہا تھ آخر کار

اندر سے آواز آئی کون صاحب ہیں؟
میں شیر خان ولد دلیر خان
اچھا۔ اچھا اندر آ جائیں
لیکن آپ ذرا اپنے کتے کو تو پکڑ لیں۔ باہر سے آواز آئی۔

پہلا افیمی : میں چین کی خوب سیر کی. ہر جگہ گھوما پھرا۔دوسرا افیمی: آخر تم نے

پہلا افیمی : میں چین کی خوب سیر کی. ہر جگہ گھوما پھرا۔
دوسرا افیمی: آخر تم نے چین میں کیا کیا دیکھا۔
پہلا افیمی: ایک بہت بڑی اور لمبی دیوار۔
دوسرا افیمی: کیا دیوار کی دوسری طرف بھی دیکھا۔
پہلا افیمی: نہیں
دوسرا افیمی: بے وقوف میں اسی دیوار کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔