Urdu Jokes

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Welcome To Urdu Jokes Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 Urdu Jokes. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can't Finish Then All Because We Are Adding More Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Fresh Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes. Please Do Remeber To Add One Joke Because A Joke A Day, Keeps The Sorrow Away...

ایک بھلے مانس کی گائے گم ہو گئی اور وہ رپورٹ درج کرانے کے لیے ایک تھانے گیا۔

ایک بھلے مانس کی گائے گم ہو گئی اور وہ رپورٹ درج کرانے کے لیے ایک تھانے گیا۔
سپاہی نے رپورٹ لکھتے ہوئے پوچھا۔
تمہاری گائے کی نشانی کیا تھی۔
جناب وہ چلتے ہوئے دم ہلاتی تھی۔

جج : ثابت ہو چکا ہے کہ تمام اشیائ تم نے ہی چرائی تھیں کیونکہ تمہاری انگلیو

جج : ثابت ہو چکا ہے کہ تمام اشیائ تم نے ہی چرائی تھیں

کیونکہ تمہاری انگلیوں کے نشا ن موجود ہیں۔
ملزم نے کہا۔
میری انگلیوں کے نشان؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ اس

وقت تو میں نے دستانے پہنے ہوئے تھے۔

ایک صاحب آدھی رات کے بعد گھر پہنچے اور

ایک صاحب آدھی رات کے بعد گھر پہنچے اور بڑی دیر تک دروازہ

کھٹکھٹانے کے باوجود بیگم کو جگانے میں ناکام رہے۔
اچانک انہیں ایک ترکیب آزمانے کا خیال آیا اور انہوں نے امی امی

چلانا شروع کر دیا۔
اگلے ہی لمحے بیگم صاحبہ بڑبڑا کر اٹھیں اور فوراً دروازہ کھول

دیا۔

دو دوست سڑک سے ملحق میدان میں گولف کھ

دو دوست سڑک سے ملحق میدان میں گولف کھیلنے میں

منہمک تھے۔ ایک دوست نے ہٹ لگانے کا ارادہ کیا کہ سڑک پر

ایک جنازہ آتا ہوا دکھائی دیا اس نے ہٹ لگانے کی بجائے سٹک

ہاتھ سے چھوڑ دی اور ہیٹ اتار کر احتراماً سر جھکا کر کھڑا ہو

گیا۔
جنازہ گذر گیا تو دوسرے دوست نے کہا۔
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ تم نے سچے دل سے

جنازے کا احترام کیا ہے واقعی ہمیں ہر جنازے کا اسی طرح

احترام کرنا چاہیے۔
بھئی . اتنا احترام کرنا میرا فرض تھا کیونکہ مرحومہ نے مسلسل

تیس برس بحیثیت بیوی میرا ساتھ دیاتھا۔

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون

ایک شخص نے بس میں بیٹھی ہوئی ایک خاتون کو ایک چانٹا مار

دیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ مجسٹریٹ نے ملزم سے پوچھا۔
تم نے اس خاتون کو چانٹا کیوں مارا۔
ملزم نے اپنا بیان شروع کیا۔
جناب عالی ! واقعہ یہ ہوا کہ میں اس خاتون کی سیٹ کے

سامنے بیٹھا تھا۔ میںنے دیکھا کہ بس کا کنڈیکٹر اس خاتون کے

پاس آیا اور بولا۔
محترمہ ٹکٹ لے لیں۔
یہ سن کر خاتون نے سیٹ کے نیچے سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔

سوٹ کیس کھول کر اس میں سے پرس نکالا۔ پرس نکال کر

سوٹ کیس بند کر دیا۔ سوٹ کیس بند کر کے پرس کھولا۔
پرس کھول کر اس میں سے اپنا چھوٹا بٹوا نکال کر پرس بند کر

Syndicate content