Urdu Jokes

Welcome To Urdu Jokes Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 <b>Urdu Jokes</b>. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can't Finish Then All Because We Are Adding More Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Fresh Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes. Please Do Remeber To Add One Joke Because A Joke A Day, Keeps The Sorrow Away...

مسافر ﴿کسان سے ﴾ اگر آپ مجھے اپنے کھیت میں سے گزرنے دیں تو میں سوا سات بجے وال

مسافر ﴿کسان سے ﴾ اگر آپ مجھے اپنے کھیت میں سے گزرنے دیں تو میں سوا سات بجے والی ٹرین پر سوار ہو جاؤں گا۔
کسان نے جواب دیا۔ بڑے شوق سے گزریں لیکن اگر ہمارے کتے نے آپ کو دیکھ لیا تو پونے سات بجے والی ٹرین پر سوار کر دے گا۔

تین لیٹرے ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے اچانک ان میں ایک لیٹرا کھڑا ہو گیا اور ا

تین لیٹرے ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے اچانک ان میں ایک لیٹرا کھڑا ہو گیا اور ایک مسافر کو غصے سے کہنے لگا تمہارے پاس جو کچھ ہے نکا ل دو۔
مسافر ذرا آہستہ بولو میرے پاس تو ریل گاڑی کا ٹکٹ بھی نہیں ہے۔

دو شکار ی مرغابیوں کا شکار کر رہے تھے۔ ایک نے جب گولی چلائی تو وہ مرغابی کے بج

دو شکار ی مرغابیوں کا شکار کر رہے تھے۔ ایک نے جب گولی چلائی تو وہ مرغابی کے بجائے ایک مینڈک کو لگی اس نے مینڈک کو اٹھایا اور دوسرے کو دکھا کر کہنے لگا دیکھو کتنا زبردست نشانے باز ہوں۔ ایسا نشانہ لگایا کہ مرغابی کے تمام پر صاف ہو گئے۔

محکمہ نہر کے ایک سرکاری افسر نے ایک شخ

محکمہ نہر کے ایک سرکاری افسر نے ایک شخص کو نہر میں ڈبکیاں کھاتے دیکھا۔ تمہیں معلوم ہے یہاں تیرنا یا نہانا منع ہے۔ افسر نے کہا
ڈبکیاں کھاتا ہو اشخص بولا جناب لیکن . میں تو . ڈوب رہا ہوں۔
اچھا تو پھر ٹھیک ہے یہ کہہ کر افسر آگے بڑھ گیا۔

ایک سکھ اور مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ وہ تیز بھاگ سکتا

ایک سکھ اور مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ وہ تیز بھاگ سکتا ہے اتنے میں کچھ لوگ آئے اور فیصلہ یہ ہوا کہ دونوں کو دوڑا کر دیکھ لیتے ہیں۔ مسلمان سے کہا کہ تم اس سامنے والی سفید بتی کو ہاتھ لگا کر آؤ۔ اور سکھ سے کہا تم اس سامنے والی سرخ بتی کو ہاتھ لگا کر آؤ۔ مسلمان تو تھوڑی دیر میں واپس آگیا۔ لیکن سکھ دو دو دن بعد ہانپتا کانپتا ہوا آیا اور بولا تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔
کس طرح؟ ان آدمیوں نے پوچھا
مسلمان کو تو مسجد والی بتی بتائی اور مجھے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا۔

کچھ لوگ اپنے پسندید شاعر کا گھر ڈھونڈت

کچھ لوگ اپنے پسندید شاعر کا گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک محلہ میں پہنچے اور ایک دروازے پر دستک دی وہ صاحب باہر آئے۔
کیا مشہور شاعر یہیں رہتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا۔
نہیں۔ نہیں ہم یہاں پیشگی کرایہ لے کر اپنا مکان دیتے ہیں۔ ان صاحب نے جواب دیا۔