Urdu Jokes

Welcome To Urdu Jokes Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 <b>Urdu Jokes</b>. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can't Finish Then All Because We Are Adding More Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Fresh Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes. Please Do Remeber To Add One Joke Because A Joke A Day, Keeps The Sorrow Away...

ایک پاکستانی فرانس میں ایک ھائی وے پر گا

ایک پاکستانی فرانس میں ایک ھائی وے پر گاڑی چلا رھا ھوتا ھے۔
گاڑی چلاتے چلاتے جس موڑ سے اس نے مڑنا ھوتا ھے وہ اس سے چھوٹ جاتا ھے۔ اگلا موڑ بیس میل بعد آنا ھوتا ھے۔ تو وہ پاکستانی اسٹائل میں
گاڑی روک کر تیز رفتار ھائی وے پر ریورس گئیر میں چلانا شروع کر دیتا ھے۔
پیچھے سے آنے والا ٹرک زور سے ٹکرا جاتا ھے۔

ٹریفک پولیس والا آتا ھے پہلے فرنچ ٹرک ڈرائیو سے بات کرتا ھے اور پھر پاکستانی کے پاس آ کر کہتا ھے
آپ سے معذرت خواہ ھیں ٹرک ڈرائیو نے اتنی شراب پی ھوئی ھے کہ مستی میں کہہ رھا ھے آپ ھائی وے پر ریورس گئیر میں چلا رھے تھے۔ ھم اس کو ابھی جیل بھجواتے ھیں۔ شکریہ

پہلا : اگر میں تمہارا ایک کاٹ دوں تو؟دوسرا : مجھے کم سنائی دے گا۔پہلا: اور

پہلا : اگر میں تمہارا ایک کاٹ دوں تو؟
دوسرا : مجھے کم سنائی دے گا۔
پہلا: اور اگر میں تمہارے دونوں کان کاٹ دوں .تو؟
دوسرا : تو مجھے کچھ دکھائی نہ دے گا۔
پہلا : وہ کیسے؟
دوسرا : میری ٹوپی کانوں سے سرک کر آنکھوں پر جو آ جائے گی۔

ایک شخص نے نئی کار خریدی اور ڈرائیور سے کہا کہ سیر کے لیے شہر سے باہر چلو۔ اتف

ایک شخص نے نئی کار خریدی اور ڈرائیور سے کہا کہ سیر کے لیے شہر سے باہر چلو۔ اتفاق سے ڈرائیور نیا تھا۔ گاڑی پر قابو نہ پا سکا اور وہ ایک درخت سے ٹکرا کر رک گئی۔
کار کے مالک نے ڈرائیور سے پوچھا. کیوں بھئی جہاں درخت نہیں ہوتے تم وہاں کیاکرتے ہو۔

ریلوے اسٹیشن ماسٹر نے اپنے ایک افسر

ریلوے اسٹیشن ماسٹر نے اپنے ایک افسر سے کہا جناب یہ گوالا ریلوے پر اپنی بھینسوں کی وجہ سے مقدمہ دائر کرنے والا ہے۔
گویا ہماری ٹرینیں بہت تیز چلتی ہیں اور اس کی بھینسیں ریلوے لائن پر گرکر مر جاتی ہیں۔
جی نہیں۔ اسٹیشن ماسٹر نے جواب دیا ہماری ٹرینیں اتنی سست چلتی ہیں کہ لوگ چلتی گاڑی سے اتر جاتے ہیں اس کی بھینسوں کا دودھ دوہتے ہیں اور پھر واپس ٹرین میں چڑھ میں جاتے ہیں۔

ٹرین میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو جگا کر وقت دریافت کیا۔ سوتا ہوا شخص جھنجھلا

ٹرین میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو جگا کر وقت دریافت کیا۔ سوتا ہوا شخص جھنجھلا اٹھا اور اس نے غصے سے اس آدمی کے ایک تھپڑ رسید کر دیا اور بولاایک بجا ہے۔
وہ آدمی گال سہلاتے ہوئے بولا۔ اچھا ہوا میں نے ایک گھنٹہ پہلے ٹائم نہیں پوچھا۔

پہلا وکیل: تم جھوٹے ہو۔دوسرا وکیل: تم فراڈئیے اور دھوکے باز ہو۔جج: آپ دونو

پہلا وکیل: تم جھوٹے ہو۔
دوسرا وکیل: تم فراڈئیے اور دھوکے باز ہو۔
جج: آپ دونوں کو اپنی اصلیت معلوم ہو گئی ہے۔ اب مقدمہ کی پیروی کریں۔

ایک ملک کی ٹیم جب کرکٹ اور ہاکی کا میچ ہار کر وطن واپس آئی تو اخبار نویسوں نے

ایک ملک کی ٹیم جب کرکٹ اور ہاکی کا میچ ہار کر وطن واپس آئی تو اخبار نویسوں نے منیجر سے کھیل کی کارکردگی کے متعلق پوچھا۔
ہماری ہاکی کی ٹیم کیسی رہی؟
بہت اچھی۔ ان کے کھلاڑیوں نے بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں ہم ہاکی کا میچ ہار گئے۔
اور کرکٹ کی کارکردگی کیسی رہی۔ ایک رپورٹر نے پوچھا۔
کرکٹ میچ وہ جیت گئے۔ منیجر نے جواب دیا۔

ایک دیہاتی اخبار کے دفتر میں پہنچا اور کہا ایک آدمی مر گیا ہے۔اس کی موت کی خبر

ایک دیہاتی اخبار کے دفتر میں پہنچا اور کہا ایک آدمی مر گیا ہے۔اس کی موت کی خبر چھپوانی ہے۔
اسے بتایا گیا کہ خبر کی جگہ اشتہار شائع ہو گا۔
دیہاتی نے اشتہار کا خرچہ پوچھا۔
اسے بتایا گیا کہ پچیس روپے فی انچ
دیہاتی بولا یہ تو بہت مہنگا ہے مرنے والا چھ فٹ تین انچ کا تھا۔

چھ منزلہ عمارت سے گرنے کے بعد امجد نے اسلم کو فون کیا تھا۔تمہارا تو انتقال ہ

چھ منزلہ عمارت سے گرنے کے بعد امجد نے اسلم کو فون کیا تھا۔
تمہارا تو انتقال ہو گیا ہے امجد۔
ہاں دوست نیچے گرتے ہی مر گیا تھا۔
تم جھوٹے ہو۔ اسلم نے چلا کر کہا تم مرے نہیں ہو اور یہیں کہیں سے فون کر رہے ہو۔
نہیں میرے دوست تمہیں یقین ہے کہ میں مر چکا ہوں اگر میں زندہ ہوتا تو تم مجھے جھوٹا کہنے کی جرأت کر سکتے تھے۔