دو فلسفی دنیا کے شور و غل سے تنگ آکر ایک سنسان جزیرے پر چلے گئے تاکہ ان کےغور و

دو فلسفی دنیا کے شور و غل سے تنگ آکر ایک سنسان جزیرے پر چلے گئے تاکہ ان کےغور و فکر میں خلل نہ پڑے۔
جب ایک سال گزر کیا تو ایک نے دوسرے سے کہا۔۔
“واقعی یہاں بہت سکون ہے“
ایک سال بعد دوسرے نے جواب دیا
“ اگر تم اتنا شور کروگے تو میری تیری راہیں جدا“

دو سردار ٹریفک پولیس میں بھرتی ھو گئے۔ ا

دو سردار ٹریفک پولیس میں بھرتی ھو گئے۔ ایک غیرملکی ٹورسٹ نے ایک ھوٹل کا راستہ انگلش میں پوچھا انہیں سمجھ نہ آئ پھر اس نے فرنچ میں دریافت کیا پھر ڈچ میں اور آخر میں فارسی میں لیکن ہر دفعہ جواب انکار میں ملا۔ اس کے جانے کے بعد۔
پہلا سردار: یار ہمیں بھی کوئ غیرملکی زبان سیکھ لینی چاہئے۔
دوسرا سردار: چھوڑ یار اس نے اتنی زبانیں سیکھ کر کیا فائدہ حاصل کر لیا۔

امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کی ڈیموکریٹ

امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کی ڈیموکریٹک پارٹی کا نشان گدھا تھا۔ بلکہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ پارٹی پرچم پر بھی یہی بنا ہوا ہے۔ اس پرچم تلے پوری امریکن قوم ایران کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی رہی۔ ہمارا مطلب ہے بے حس و حرکت، مغرب کو گدھے میں کوئی مضحکہ خیز بات نظر نہیں آتی۔ فرانسیسی مفکر اور انشائیہ نگار موفیتین تو اس جانور کے اوصاف حمیدہ کا اس قدر معترف اور معرف تھا کہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ “ روئے زمین پر گدھے سے زیادہ پراعتماع، مستقل مزاج، گھمبیر، دنیا کو حقارت سے دیکھنے والا اور اپنے ہی دھیان اور دھن میں مگن رہنے والا اور کوئی ذی روح نہیں ملے گا۔“
ہم ایشیائی دراصل گدھے کو اس لیے ذلیل سمجھتے ہیں کہ اس میں کچھ انسانی خصوصیات پائی جاتی ہیں مثلاً یہ کہ اپنی سہار اور بساط سے زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے اور جتنا زیادہ پٹتا اور بھوکوں مرتا ہے، اتنا ہی اپنے آقا کا مطیع و فرمانبردار اور شکر گزار ہوتا ہے۔